(URDU) QURAN
35 - فَاطِر
        
1. تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں جو آسمانوں اور زمین (کی تمام وسعتوں) کا پیدا فرمانے والا ہے، فرشتوں کو جو دو دو اور تین تین اور چار چار پَروں والے ہیں، قاصد بنانے والا ہے، اور تخلیق میں جس قدر چاہتا ہے اضافہ (اور توسیع) فرماتا رہتا ہے، بیشک اﷲ ہر چیز پر بڑا قادر ہے
2. اﷲ انسانوں کے لئے (اپنے خزانۂ) رحمت سے جو کچھ کھول دے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے، اور جو روک لے تو اس کے بعد کوئی اسے چھوڑنے والا نہیں، اور وہی غالب ہے بڑی حکمت والا ہے
3. اے لوگو! اپنے اوپر اﷲ کے انعام کو یاد کرو، کیا اﷲ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو
4. اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے کتنے ہی رسول جھٹلائے گئے، اور تمام کام اﷲ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گےo
5. اے لوگو! بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں ہرگز فریب نہ دے دے، اور نہ وہ دغا باز شیطان تمہیں اﷲ (کے نام) سے دھوکہ دے
6. بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے سو تم بھی (اس کی مخالفت کی شکل میں) اسے دشمن ہی بنائے رکھو، وہ تو اپنے گروہ کو صرف اِس لئے بلاتا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہو جائیں
7. کافر لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا ثواب ہے
8. بھلا جس شخص کے لئے اس کا برا عمل آراستہ کر دیا گیا ہو اور وہ اسے (حقیقتاً) اچھا سمجھنے لگے (کیا وہ مومنِ صالح جیسا ہو سکتا ہے)، سو بیشک اﷲ جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے، سو (اے جانِ جہاں!) ان پر حسرت اور فرطِ غم میں آپ کی جان نہ جاتی رہے، بیشک وہ جو کچھ سرانجام دیتے ہیں اﷲ اسے خوب جاننے والا ہے
9. اور اﷲ ہی ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادل کو ابھار کر اکٹھا کرتی ہیں پھر ہم اس (بادل) کو خشک اور بنجر بستی کی طرف سیرابی کے لئے لے جاتے ہیں، پھر ہم اس کے ذریعے اس زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندگی عطا کرتے ہیں، اسی طرح (مُردوں کا) جی اٹھنا ہوگا
10. جو شخص عزت چاہتا ہے تو اﷲ ہی کے لئے ساری عزت ہے، پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور وہی نیک عمل(کے مدارج) کو بلند فرماتا ہے، اور جو لوگ بری چالوں میں لگے رہتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر و فریب نیست و نابود ہو جائے گا
11. اور اﷲ ہی نے تمہیں مٹی (یعنی غیر نامی مادّہ) سے پیدا فرمایا پھر ایک تولیدی قطرہ سے، پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنایا، اور کوئی مادّہ حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے، اور نہ کسی دراز عمر شخص کی عمر بڑھائی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (یہ سب کچھ) لوحِ (محفوظ) میں ہے، بیشک یہ اﷲ پر بہت آسان ہے
12. اور دو سمندر (یا دریا) برابر نہیں ہو سکتے، یہ (ایک) شیریں، پیاس بجھانے والا ہے، اس کا پینا خوشگوار ہے اور یہ (دوسرا) کھاری، سخت کڑوا ہے، اور تم ہر ایک سے تازہ گوشت کھاتے ہو، اور زیور (جن میں موتی، مرجان اور مونگے وغیرہ سب شامل ہیں) نکالتے ہو، جنہیں تم پہنتے ہو اور تُو اس میں کشتیوں (اور جہازوں) کو دیکھتا ہے جو (پانی کو) پھاڑتے چلے جاتے ہیں تاکہ تم (بحری تجارت کے راستوں سے) اس کا فضل تلاش کر سکو اور تاکہ تم شکرگزار ہو جاؤ
13. وہ رات کو دن میں داخل فرماتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو (ایک نظام کے تحت) مسخرّ فرما رکھا ہے، ہر کوئی ایک مقرر میعاد کے مطابق حرکت پذیر ہے۔ یہی اﷲ تمہارا رب ہے اسی کی ساری بادشاہت ہے، اور اس کے سوا تم جن بتوں کو پوجتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے باریک چھلکے کے (بھی) مالک نہیں ہیں
14. (اے مشرکو!) اگر تم انہیں پکارو تو وہ (بت ہیں) تمہاری پکار نہیں سُن سکتے اور اگر (بالفرض) وہ سُن لیں تو تمہیں جواب نہیں دے سکتے، اور قیامت کے دن وہ تمہارے شِرک کا بالکل انکار کر دیں گے، اور تجھے خدائے باخبر جیسا کوئی خبردار نہ کرے گ
15. اے لوگو! تم سب اﷲ کے محتاج ہو اور اﷲ ہی بے نیاز، سزاوارِ حمد و ثنا ہے
16. اگر وہ چاہے تمہیں نابود کر دے اور نئی مخلوق لے آئےo
17. اور یہ اﷲ پر کچھ مشکل نہیں ہے
18. اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بارِ (گناہ) نہ اٹھا سکے گا، اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا (دوسرے کو) اپنا بوجھ بٹانے کے لئے بلائے گا تو اس سے کچھ بھی بوجھ نہ اٹھایا جا سکے گا خواہ قریبی رشتہ دار ہی ہو، (اے حبیب!) آپ ان ہی لوگوں کو ڈر سناتے ہیں جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کوئی پاکیزگی حاصل کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لئے پاک ہوتا ہے، اور اﷲ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
19. اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے
20. اور نہ تاریکیاں اور نہ نور (برابر ہو سکتے ہیں)
21. اور نہ سایہ اور نہ دھوپ
22. اور نہ زندہ لوگ اور نہ مُردے برابر ہو سکتے ہیں، بیشک اﷲ جسے چاہتا ہے سنا دیتا ہے، اور آپ کے ذِمّے اُن کو سنانا نہیں جو قبروں میں (مدفون مُردوں کی مانند) ہیں (یعنی آپ کافروں سے اپنی بات قبول کروانے کے ذمّہ دار نہیں ہیں)٭o ٭ یہاں پر مَنْ فِي الْقُبُوْرِ (قبروں میں مدفون مُردوں) سے مراد کافر ہیں۔ اَئمہ تفسیر نے صحابہ و تابعین رضی اللہ عنھم سے یہی معنی بیان کیا ہے۔ بطور حوالہ ملاحظہ فرمائیں : تفسیر اللباب لابن عادل الدمشقی (15 : 199، 200)، تفسیر القرطبی (14 : 340)، تفسیر البغوی (3 : 569)، زاد المسیر لابن الجوزی (7 : 484)، تفسیر الخازن (3 : 498)، تفسیر ابن کثیر (3 : 553)، الدر المنثور للسیوطي (7 : 18)، اور فتح القدیر للشوکانی (4 : 346)۔
23. آپ تو فقط ڈر سنانے والے ہیں
24. بیشک ہم نے آپ کو حق و ہدایت کے ساتھ، خوشخبری سنانے والا اور (آخرت کا) ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور کوئی امّت (ایسی) نہیں مگر اُس میں کوئی (نہ کوئی) ڈر سنانے والا (ضرور) گزرا ہے
25. اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو بیشک اِن سے پہلے لوگ (بھی) جھٹلا چکے ہیں، اُن کے پاس (بھی) اُن کے رسول واضح نشانیاں اور صحیفے اور روشن کرنے والی کتاب لے کر آئے تھے
26. پھر میں نے ان کافروں کو (عذاب میں) پکڑ لیا سو میرا انکار (کیا جانا) کیسا (عبرت ناک) ثابت ہواo
27. کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس سے پھل نکالے جن کے رنگ جداگانہ ہیں، اور (اسی طرح) پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ گھاٹیاں ہیں ان کے رنگ (بھی) مختلف ہیں اور بہت گہری سیاہ (گھاٹیاں) بھی ہیں
28. اور انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی اسی طرح مختلف رنگ ہیں، بس اﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو (ان حقائق کا بصیرت کے ساتھ) علم رکھنے والے ہیں، یقیناً اﷲ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے
29. بیشک جو لوگ اﷲ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، پوشیدہ بھی اور ظاہر بھی، اور ایسی (اُخروی) تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خسارے میں نہیں ہوگی
30. تاکہ اﷲ ان کا اجر انہیں پورا پورا عطا فرمائے اور اپنے فضل سے انہیں مزید نوازے، بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا، بڑا ہی شکر قبول فرمانے والا ہے
31. اور جو کتاب (قرآن) ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے، وہی حق ہے اور اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے، بیشک اﷲ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر ہے خوب دیکھنے والا ہے
32. پھر ہم نے اس کتاب (قرآن) کا وارث ایسے لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چُن لیا (یعنی امّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو)، سو ان میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے درمیان میں رہنے والے بھی ہیں، اور ان میں سے اﷲ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے بھی ہیں، یہی (آگے نکل کر کامل ہو جانا ہی) بڑا فضل ہے
33. (دائمی اِقامت کے لئے) عدن کی جنّتیں ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے، ان میں انہیں سونے اور موتیوں کے کنگنوں سے آراستہ کیا جائے گا اور وہاں ان کی پوشاک ریشمی ہوگی
34. اور وہ کہیں گے: اﷲ کا شکر و حمد ہے جس نے ہم سے کُل غم دور فرما دیا، بیشک ہمارا رب بڑا بخشنے والا، بڑا شکر قبول فرمانے والا ہے
35. جس نے ہمیں اپنے فضل سے دائمی اقامت کے گھر لا اتارا ہے، جس میں ہمیں نہ کوئی مشقّت پہنچے گی اور نہ اس میں ہمیں کوئی تھکن پہنچے گی
36. اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے، نہ ان پر (موت کا) فیصلہ کیا جائے گا کہ مر جائیں اور نہ ان سے عذاب میں سے کچھ کم کیا جائے گا، اسی طرح ہم ہر نافرمان کو بدلہ دیا کرتے ہیں
37. اور وہ اس دوزخ میں چِلّائیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمیں (یہاں سے) نکال دے، (اب) ہم نیک عمل کریں گے ان (اَعمال) سے مختلف جو ہم (پہلے) کیا کرتے تھے۔ (ارشاد ہوگا:) کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا، وہ سوچ سکتا تھا اور (پھر) تمہارے پاس ڈر سنانے والا بھی آچکا تھا، پس اب (عذاب کا) مزہ چکھو سو ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہ ہوگا
38. بیشک اﷲ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے والا ہے، یقیناً وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں سے خوب واقف ہے
39. وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں (گزشتہ اقوام کا) جانشین بنایا، پس جس نے کفر کیا سو اس کا وبالِ کفر اسی پر ہوگا، اور کافروں کے حق میں ان کا کفر اُن کے رب کے حضور سوائے ناراضگی کے اور کچھ نہیں بڑھاتا، اور کافروں کے حق میں ان کا کفر سوائے نقصان کے کسی (بھی) اور چیز کا اضافہ نہیں کرتا
40. فرما دیجئے: کیا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا ہے جنہیں تم اﷲ کے سوا پوجتے ہو، مجھے دکھا دو کہ انہوں نے زمین سے کیا چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کی کوئی شراکت ہے، یا ہم نے انہیں کوئی کتاب عطا کر رکھی ہے کہ وہ اس کی دلیل پر قائم ہیں؟ (کچھ بھی نہیں ہے) بلکہ ظالم لوگ ایک دوسرے سے فریب کے سوا کوئی وعدہ نہیں کرتے
41. بیشک اﷲ آسمانوں اور زمین کو (اپنے نظامِ قدرت کے ذریعے) اس بات سے روکے ہوئے ہے کہ وہ (اپنی اپنی جگہوں اور راستوں سے) ہٹ سکیں، اور اگر وہ دونوں ہٹنے لگیں تو اس کے بعد کوئی بھی ان دونوں کو روک نہیں سکتا، بیشک وہ بڑا بُردبار، بڑا بخشنے والا ہے
42. اور یہ لوگ اﷲ کے ساتھ بڑی پختہ قَسمیں کھایا کرتے تھے کہ اگر اُن کے پاس کوئی ڈر سنانے والا آجائے تو یہ ضرور ہر ایک امّت سے بڑھ کر راہِ راست پر ہوں گے، پھر جب اُن کے پاس ڈر سنانے والے (نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے تو اس سے اُن کی حق سے بیزاری میں اضافہ ہی ہوا
43. (انہوں نے) زمین میں اپنے آپ کو سب سے بڑا سمجھنا اور بری چالیں چلنا (اختیار کیا)، اور برُی چالیں اُسی چال چلنے والے کو ہی گھیر لیتی ہیں، سو یہ اگلے لوگوں کی رَوِشِ (عذاب) کے سوا (کسی اور چیز کے) منتظر نہیں ہیں۔ سو آپ اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے، اور نہ ہی اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی پھرنا پائیں گے
44. کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ دیکھ لیتے کہ اُن لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو اِن سے پہلے تھے حالانکہ وہ اِن سے کہیں زیادہ زورآور تھے، اور اﷲ ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں میں کوئی بھی چیز اسے عاجز کر سکے اور نہ ہی زمین میں (ایسی کوئی چیز ہے)، بیشک وہ بہت علم والا بڑی قدرت والا ہے
45. اور اگر اﷲ لوگوں کو اُن اعمالِ (بد) کے بدلے جو انہوں نے کما رکھے ہیں (عذاب کی) گرفت میں لینے لگے تو وہ اس زمین کی پشت پر کسی چلنے والے کو نہ چھوڑے لیکن وہ انہیں مقررہ مدّت تک مہلت دے رہا ہے۔ پھر جب ان کا مقررہ وقت آجائے گا تو بیشک اﷲ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے