Meal Seç / Sure Seç

سَبـَا Suresi

(URDU) QURAN


34 - سَبـَا
        
1. تمام تعریفیں اﷲ ہی کے لئے ہیں، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے اور آخرت میں بھی تعریف اسی کے لئے ہے، اور وہ بڑی حکمت والا، خبردار ہے
2. وہ اُن (سب) چیزوں کو جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور جو اس میں سے باہر نکلتی ہیں اور جو آسمان سے اترتی ہیں اور جو اس میں چڑھتی ہیں، اور وہ بہت رحم فرمانے والا بڑا بخشنے والا ہے
3. اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی، آپ فرما دیں: کیوں نہیں؟ میرے عالم الغیب رب کی قسم! وہ تم پر ضرور آئے گی، اس سے نہ آسمانوں میں ذرّہ بھر کوئی چیز غائب ہو سکتی ہے اور نہ زمین میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی (چیز ہے) اور نہ بڑی مگر روشن کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں (لکھی ہوئی) ہے
4. تاکہ اﷲ ان لوگوں کو پورا بدلہ عطا فرمائے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بخشِش اور بزرگی والا (اخروی) رِزق ہے
5. اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں (مخالفانہ) کوشش کی (ہمیں) عاجز کرنے کے زعم میں انہی لوگوں کے لئے سخت دردناک عذاب کی سزا ہے
6. اور ایسے لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (کتاب) آپ کے رب کی طرف سے آپ کی جانب اتاری گئی ہے وہی حق ہے اور وہ (کتاب) عزت والے، سب خوبیوں والے (رب) کی راہ کی طرف ہدایت کرتی ہے
7. اور کافر لوگ (تعجب و استہزاء کی نیت سے) کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہیں ایسے شخص کا بتائیں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مَر کر) بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو یقیناً تمہیں (ایک) نئی پیدائش ملے گی
8. (یا تو) وہ اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے یا اسے جنون ہے، (ایسا کچھ بھی نہیں) بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب اور پرلے درجہ کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں
9. سو کیا انہوں نے اُن (نشانیوں) کو نہیں دیکھا جو آسمان اور زمین سے اُن کے آگے اور اُن کے پیچھے (انہیں گھیرے ہوئے) ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا اُن پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا دیں، بیشک اس میں ہر اس بندے کے لئے نشانی ہے جو اﷲ کی طرف رجوع کرنے والا ہے
10. اور بیشک ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی بارگاہ سے بڑا فضل عطا فرمایا، (اور حکم فرمایا:) اے پہاڑو! تم اِن کے ساتھ مل کر خوش اِلحانی سے (تسبیح) پڑھا کرو، اور پرندوں کو بھی (مسخّر کر کے یہی حکم دیا)، اور ہم نے اُن کے لئے لوہا نرم کر دی
11. (اور ارشاد فرمایا) کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور (ان کے) حلقے جوڑنے میں اندازے کو ملحوظ رکھو اور (اے آلِ داوؤد!) تم لوگ نیک عمل کرتے رہو، میں اُن (کاموں) کو جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہوں
12. اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے (ہم نے) ہوا کو (مسخّر کر دیا) جس کی صبح کی مسافت ایک مہینہ کی (راہ) تھی اور اس کی شام کی مسافت (بھی) ایک ماہ کی راہ ہوتی، اور ہم نے اُن کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا، اور کچھ جنّات (ان کے تابع کردیئے) تھے جو اُن کے رب کے حکم سے اُن کے سامنے کام کرتے تھے، اور (فرما دیا تھا کہ) ان میں سے جو کوئی ہمارے حکم سے پھرے گا ہم اسے دوزخ کی بھڑکتی آگ کا عذاب چکھائیں گے
13. وہ (جنّات) ان کے لئے جو وہ چاہتے تھے بنا دیتے تھے۔ اُن میں بلند و بالا قلعے اور مجسّمے اور بڑے بڑے لگن تھے جو تالاب اور لنگر انداز دیگوں کی مانند تھے۔ اے آلِ داؤد! (اﷲ کا) شکر بجا لاتے رہو، اور میرے بندوں میں شکرگزار کم ہی ہوئے ہیں
14. پھر جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا حکم صادر فرما دیا تو اُن (جنّات) کو ان کی موت پر کسی نے آگاہی نہ کی سوائے زمین کی دیمک کے جو اُن کے عصا کو کھاتی رہی، پھر جب آپ کا جسم زمین پر آگیا تو جنّات پر ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلّت انگیز عذاب میں نہ پڑے رہتے
15. درحقیقت (قومِ) سبا کے لئے ان کے وطن ہی میں نشانی موجود تھی۔ (وہ) دو باغ تھے، دائیں طرف اور بائیں طرف۔ (اُن سے ارشاد ہوا:) تم اپنے رب کے رزق سے کھایا کرو اور اس کا شکر بجا لایا کرو۔ (تمہارا) شہر (کتنا) پاکیزہ ہے اور رب بڑا بخشنے والا ہے
16. پھر انہوں نے (طاعت سے) مُنہ پھیر لیا تو ہم نے ان پر زور دار سیلاب بھیج دیا اور ہم نے اُن کے دونوں باغوں کو دو (ایسے) باغوں سے بدل دیا جن میں بدمزہ پھل اور کچھ جھاؤ اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درخت رہ گئے تھے
17. یہ ہم نے انہیں ان کے کفر و ناشکری کا بدلہ دیا، اور ہم بڑے ناشکرگزار کے سوا (کسی کو ایسی) سزا نہیں دیتے
18. اور ہم نے ان باشندوں کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دے رکھی تھی، (یمن سے شام تک) نمایاں (اور) متصل بستیاں آباد کر دی تھیں، اور ہم نے ان میں آمد و رفت (کے دوران آرام کرنے) کی منزلیں مقرر کر رکھی تھیں کہ تم لوگ ان میں راتوں کو (بھی) اور دنوں کو (بھی) بے خوف ہو کر چلتے پھرتے رہو
19. تو وہ کہنے لگے: اے ہمارے رب! ہماری منازلِ سفر کے درمیان فاصلے پیدا کر دے، اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں (عبرت کے) فسانے بنا دیا اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے منتشر کر دیا۔ بیشک اس میں بہت صابر اور نہایت شکر گزار شخص کے لئے نشانیاں ہیں
20. بیشک ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا تو ان لوگوں نے اس کی پیروی کی بجز ایک گروہ کے جو (صحیح) مومنین کا تھا
21. اور شیطان کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر یہ اس لئے (ہوا) کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ان لوگوں سے ممتاز کر دیں جو اس کے بارے میں شک میں ہیں، اور آپ کا رب ہر چیز پر نگہبان ہے
22. فرما دیجئے: تم انہیں بلا لو جنہیں تم اللہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو، وہ آسمانوں میں ذرّہ بھر کے مالک نہیں ہیں اور نہ زمین میں، اور نہ ان کی دونوں (زمین و آسمان) میں کوئی شراکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے
24. آپ فرمائیے: تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی کون دیتا ہے، آپ (خود ہی) فرما دیجئے کہ اللہ (دیتا ہے)، اور بیشک ہم یا تم ضرور ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں
25. فرما دیجئے: تم سے اس جرم کی باز پرس نہ ہوگی جو (تمہارے گمان میں) ہم سے سرزد ہوا اور نہ ہم سے اس کا پوچھا جائے گا جو تم کرتے ہو
26. فرما دیجئے: ہم سب کو ہمارا رب (روزِ قیامت) جمع فرمائے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، اور وہ خوب فیصلہ فرمانے والا خوب جاننے والا ہے
27. فرما دیجئے: مجھے وہ شریک دکھاؤ جنہیں تم نے اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے، ہرگز (کوئی شریک) نہیں ہے! بلکہ وہی اللہ بڑی عزت والا، بڑی حکمت والا ہے
28. اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر اس طرح کہ (آپ) پوری انسانیت کے لئے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
29. اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ (آخرت) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہوo
30. فرما دیجئے: تمہارے لئے وعدہ کا دن مقرر ہے نہ تم اس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے اور نہ آگے بڑھ سکو گے
31. اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس قرآن پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس (وحی) پر جو اس سے پہلے اتر چکی، اور اگر آپ دیکھیں جب ظالم لوگ اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے (تو کیا منظر ہوگا) کہ ان میں سے ہر ایک (اپنی) بات پھیر کر دوسرے پر ڈال رہا ہوگا، کمزور لوگ متکبّروں سے کہیں گے: اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آتےo
32. متکبرّ لوگ کمزوروں سے کہیں گے: کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی، بلکہ تم خود ہی مُجرم تھے
33. . پھر کمزور لوگ متکبرّوں سے کہیں گے: بلکہ (تمہارے) رات دن کے مَکر ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور ہم اس کے لئے شریک ٹھہرائیں، اور وہ (ایک دوسرے سے) ندامت چھپائیں گے جب وہ عذاب دیکھ لیں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے، اور انہیں اُن کے کئے کا ہی بدلہ دیا جائے گا
34. اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈر سنانے والا نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں کے خوشحال لوگوں نے (ہمیشہ یہی) کہا کہ تم جو (ہدایت) دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے مُنکِر ہیں
35. اور انہوں نے کہا کہ ہم مال و اولاد میں بہت زیادہ ہیں اور ہم پر عذاب نہیں کیا جائے گا
36. فرما دیجئے: میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے رِزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
37. اور نہ تمہارے مال اس قابل ہیں اور نہ تمہاری اولاد کہ تمہیں ہمارے حضور قرب اور نزدیکی دلا سکیں مگر جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کئے، پس ایسے ہی لوگوں کے لئے دوگنا اجر ہے ان کے عمل کے بدلے میں اور وہ (جنت کے) بالاخانوں میں امن و امان سے ہوں گے
38. اور جو لوگ ہماری آیتوں میں (مخالفانہ) کوشش کرتے ہیں (ہمیں) عاجز کرنے کے گمان میں، وہی لوگ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے
39. فرما دیجئے: بیشک میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رِزق کشادہ فرما دیتا ہے اور جس کے لئے (چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے، اور تم (اﷲ کی راہ میں) جو کچھ بھی خرچ کرو گے تو وہ اس کے بدلہ میں اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رِزق دینے والا ہے
40. اور جس دن وہ سب کو ایک ساتھ جمع کرے گا پھر فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا: کیا یہی لوگ ہیں جو تمہاری عبادت کیا کرتے تھے
41. وہ عرض کریں گے: تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے نہ کہ یہ لوگ، بلکہ یہ لوگ جنات کی پوجا کیا کرتے تھے، ان میں سے اکثر اُنہی پر ایمان رکھنے والے ہیں
42. پس آج کے دن تم میں سے کوئی نہ ایک دوسرے کے نفع کا مالک ہے اور نہ نقصان کا، اور ہم ظالموں سے کہیں گے: دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
43. اور جب اُن پر ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں: یہ (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ایک ایسا شخص ہے جو تمہیں صرف اُن (بتوں) سے روکنا چاہتا ہے جن کی تمہارے باپ دادا پوجا کیا کرتے تھے، اور یہ (بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض من گھڑت بہتان ہے، اور کافر لوگ اس حق (یعنی قرآن) سے متعلق جبکہ وہ اِن کے پاس آچکا ہے، یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تو محض کھلا جادو ہے
44. اور ہم نے ان (اہلِ مکہّ) کو نہ آسمانی کتابیں عطا کی تھیں جنہیں یہ لوگ پڑھتے ہوں اور نہ ہی آپ سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈر سنانے والا بھیجا تھا
45. اور اِن سے پہلے لوگوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ اس کے دسویں حصّے کو بھی نہیں پہنچے جو کچھ ہم نے اُن (پہلے گزرے ہوؤں) کو دیا تھا پھر انہوں نے (بھی) میرے رسولوں کو جھٹلایا، سو میرا انکار کیسا (عبرت ناک ثابت) ہوا
46. فرما دیجئے: میں تمہیں بس ایک ہی (بات کی) نصیحت کرتا ہوں کہ تم اﷲ کے لئے (روحانی بیداری اور انتباہ کے حال میں) قیام کرو، دو دو اور ایک ایک، پھر تفکّر کرو (یعنی حقیقت کا معاینہ اور مراقبہ کرو تو تمہیں مشاہدہ ہو جائے گا) کہ تمہیں شرفِ صحبت سے نوازنے والے (رسولِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرگز جنون زدہ نہیں ہیں وہ تو سخت عذاب (کے آنے) سے پہلے تمہیں (بروقت) ڈر سنانے والے ہیں (تاکہ تم غفلت سے جاگ اٹھو)
47. فرما دیجئے: میں نے (اس اِحسان کا) جو صلہ تم سے مانگا ہو وہ بھی تم ہی کو دے دیا، میرا اجر صرف اﷲ ہی کے ذمّہ ہے، اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے
48. فرما دیجئے: میرا رب (انبیاء کی طرف) حق کا القاء فرماتا ہے (وہ) سب غیبوں کو خوب جاننے والا ہے
49. فرما دیجئے: حق آگیا ہے اور باطل نہ (کچھ) پہلی بار پیدا کر سکتا ہے اور نہ دوبارہ پلٹا سکتا ہے
50. فرما دیجئے: اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے کا گناہ (یا نقصان) میری اپنی ہی ذات پر ہے، اور اگر میں نے ہدایت پا لی ہے تو اس وجہ سے (پائی ہے) کہ میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بیشک وہ سننے والا ہے قریب ہے
51. اور اگر آپ (ان کا حال) دیکھیں جب یہ لوگ بڑے مضطرب ہوں گے، پھر بچ نہ سکیں گے اور نزدیکی جگہ سے ہی پکڑ لئے جائیں گےo
52. اور کہیں گے: ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، مگر اب وہ (ایمان کو اتنی) دُور کی جگہ سے کہاں پا سکتے ہیں
53. حالانکہ وہ اس سے پہلے کفر کر چکے، اور وہ بِن دیکھے دور کی جگہ سے باطل گمان کے تیر پھینکتے رہے ہی
54. اور ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی جیسا کہ پہلے اُن کے مثل گروہوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ بیشک وہ دھوکہ میں ڈالنے والے شک میں مبتلا تھےo