Meal Seç / Sure Seç

الصَّفّ Suresi

(URDU) QURAN


61 - الصَّفّ
        
1. جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اللہ کی تسبیح کرتے ہیں، اور وہ بڑی عزت و غلبہ والا بڑی حکمت والا ہے
2. اے ایمان والو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو
3. اللہ کے نزدیک بہت سخت ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے
4. بیشک اللہ ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو اُس کی راہ میں (یوں) صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں
5. اور (اے حبیب! وہ وقت یاد کیجئے) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! تم مجھے اذیت کیوں دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں۔ پھر جب انہوں نے کج روی جاری رکھی تو اللہ نے اُن کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا
6. اور (وہ وقت بھی یاد کیجئے) جب عیسٰی بن مریم (علیہما السلام) نے کہا: اے بنی اسرائیل! بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اُس رسولِ (معظّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد آمد) کی بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لا رہے ہیں جن کا نام (آسمانوں میں اس وقت) احمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے، پھر جب وہ (رسولِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واضح نشانیاں لے کر اُن کے پاس تشریف لے آئے تو وہ کہنے لگے: یہ تو کھلا جادو ہے
7. اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا
8. یہ (منکرینِ حق) چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں) سے بجھا دیں، جبکہ اللہ اپنے نور کو پورا فرمانے والا ہے اگرچہ کافر کتنا ہی ناپسند کریں
9. وہی ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ اسے سب ادیان پر غالب و سربلند کردے خواہ مشرک کتنا ہی ناپسند کریں
10. اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت بتا دوں جو تم کو دردناک عذاب سے بچا لے؟
11. (وہ یہ ہے کہ) تم اللہ پر اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (کامل) ایمان رکھو اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
12. وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور نہایت عمدہ رہائش گاہوں میں (ٹھہرائے گا) جو جناتِ عدن (یعنی ہمیشہ رہنے کی جنتوں) میں ہیں، یہی زبردست کامیابی ہے
13. اور (اس اُخروی نعمت کے علاوہ) ایک دوسری (دنیوی نعمت بھی عطا فرمائے گا) جسے تم بہت چاہتے ہو، (وہ) اللہ کی جانب سے مدد اور جلد ملنے والی فتح ہے، اور (اے نبئ مکرّم!) آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیں (یہ فتحِ مکہ اور فارس و روم کی فتوحات کی شکل میں ظاہر ہوئی)
14. اے ایمان والو! تم اللہ کے مددگار بن جاؤ جیسا کہ عیسٰی ابن مریم (علیہما السلام) نے (اپنے) حواریوں سے کہا تھا: اللہ کی (راہ کی) طرف میرے مددگار کون ہیں؟ حواریوں نے کہا: ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ پس بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا اور دوسرا گروہ کافر ہوگیا، سو ہم نے اُن لوگوں کی جو ایمان لے آئے تھے اُن کے دشمنوں پر مدد فرمائی پس وہ غالب ہوگئے