|
1. |
آسمان (کی فضائے بسیط اور خلائے عظیم) کی قَسم اور رات کو (نظر) آنے والے کی قَس |
|
2. |
اور آپ کو کیا معلوم کہ رات کو (نظر) آنے والا کیا ہے |
|
3. |
(اس سے مراد) ہر وہ آسمانی کرّہ ہے (خواہ وہ ستارہ ہو یا سیارہ یا اَجرامِ سماوی کا کوئی اور کرّہ) جو چمک کر (فضا کو) روشن کر دیتا ہے٭ |
|
4. |
کوئی شخص ایسا نہیں جس پر ایک نگہبان (مقرر) نہیں ہے |
|
5. |
پس انسان کو غور (و تحقیق) کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے |
|
6. |
وہ قوت سے اچھلنے والے پانی (یعنی قوی اور متحرک مادۂ تولید) میں سے پیدا کیا گیا ہے |
|
7. |
جو پیٹھ اور کولہے کی ہڈیوں کے درمیان (پیڑو کے حلقہ میں) سے گزر کر باہر نکلتا ہے |
|
8. |
بیشک وہ اس (زندگی) کو پھر واپس لانے پر بھی قادر ہے |
|
9. |
جس دن سب راز ظاہر کر دیے جائیں گے |
|
10. |
پھر انسان کے پاس نہ (خود) کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی (اس کا) مددگار ہوگ |
|
11. |
اس آسمانی کائنات کی قَسم جو پھر اپنی ابتدائی حالت میں پلٹ جانے والی ہے |
|
12. |
اس زمین کی قَسم جو پھٹ (کر ریزہ ریزہ ہو) جانے والی ہے |
|
13. |
بیشک یہ فیصلہ کن (قطعی) فرمان ہے |
|
14. |
اور یہ ہنسی کی بات نہیں ہے |
|
15. |
بیشک وہ (کافر) پُر فریب تدبیروں میں لگے ہوئے ہیں |
|
16. |
اور میں اپنی تدبیر فرما رہا ہوں |
|
17. |
. پس آپ کافروں کو (ذرا) مہلت دے دیجئے، (زیادہ نہیں بس) انہیں تھوڑی سی ڈھیل (اور) دے دیجئے |